Posts

مسلمان کے دشمن

Image
دنیا میں مسلمان دشمن دار ہستی ہے۔ یہ دشمن وہ خود نہ بھی بنائے تو بھی ان کی دشمنی سے بچنا محال ہے۔ شیطان مردود  تو کھلا دشمن ہے ہی۔اس کے علاوہ مسلمان کا ایک دشمن نفس ہے، اس کی جبلت، اس کی خواہشات  حتی کہ اس کی ضروریات بھی اس کی دشمن ہوتی ہیں۔ میرے ایک ساتھی نے اس لیے بڑا مکان بنایا کہ اس کے پاس علم کی طلب میں آنے والوں کی تعداد زیادہ ہو رہی تھی۔ مگر بڑا مکان بنانے کی خواہش نے اسے عمل سے اس قدر دور کر دیا کہ بڑا مکان تو بن گیا مگر علم کی طلب میں آنے والوں کی بجائے اس کے پاس ایسے سائلین کا اضافہ ہو گیا جو دنیا میں منفعت دینے والی چیزوں کے طالب تھے۔ چند سال بعد میں نے دیکھا اس کے علم کی تشریح دھندلا چکی ہے۔ وہ تساہل پسند اور دنیاوی چاہ کا طالب ہو چکا ہے۔اور اپنی ہر خواہش اور منفعت کے لیے وہ اپنے علم ہی سے دلیل ڈہونڈ نکالتا ہے۔ معلوم یہ ہوا انسان کا ایک بڑا دشمن اس کو سہل پسند بنا دینے ووووالی خواہشات ہیں۔ اگر ایک مسلمان کے پاس قابل زکواۃ مال نہیں ہے تو اس کا حق ہے وہ اپنا دماغ اور جسمانی اعضاء سے فائدہ اٹھا کر اتنا مال جمع کر لے کہ صاحب زکواۃ ہو کر دوسرے مسلمانوں کی راحت کا سبب بن...

مسلمانوں کی اقسام

Image
مسلمانوں کی ایک قسم وہ ہے جو خود کو مسلمان کہتے ہیں۔ زبان سے کلمہ طیبہ ادا کرتے ہیں مگردل سے رسالت محمد  ﷺ کی رسالت کے یا  ان کے ختم الرسل ہونے کے منکر ہیں۔ ایسے لوگ منافقین ہی کہلا نے کے مستحق ہیں۔ علماء حق کے نزدیک ایسے لوگوں کو مسلمان کہنا یا جاننا ظلم ہے۔ بہرحال ایسے لوگ جو خود کو مسلمان کہلاتے ہیں ان کا معاملہ ان کے اور اللہ تعالی ٰ کے مابین ہے۔ مسلمانوں کی دوسری قسم میں وہ لوگ شامل ہیں جو مسلمان والدین کے ہاں پیدا ہوئے ہیں۔ کلمہ طیبہ والدین یا استادوں سے دیکھا ہے اور دل میں اس پر یقین بھی رکھتے ہیں۔ یہ عام مسلمان ہیں  مسلمانوں کی تیسری قسم زبان سے کلمہ طیبہ کا اقرار کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی کی وحدانیت اور رسالت محمدی  ﷺ پر دلیل سے یقین رکھتے ہیں۔ انھوں نے اپنی ذات اور دوسروں کو مطمن کرنے کے لیے علمی دلیل رکھتے ہیں۔ یہ لوگ علماء ہیں  مسلمانوں کی چوتھی قسم بھی ہے جو اپنے علم کی روشنی میں اپنے عمل کو نکھارتی ہے۔ اس عمل سے ان کی راہ روشن ہوتی جاتی ہے اور اس نور منور میں وہ ایسے مشاہدات سے دوچار ہوتے ہیں جو ان میں دلیل سے بڑھ کر یقین پیدا کرنے کا سبب بنتے ہ...